اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ان انتخابات میں امیدوار نہیں تھے، ورنہ ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔
الجزیرہ کے حوالے سے خبر رساں ادارے مہر کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ریپبلکنز کی انتخابی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں ان انتخابات میں امیدوار نہیں تھا؛ اگر ہوتا تو ہم فیصلہ کن کامیابی حاصل کرتے۔
انہوں نے مزید کہا: میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض معاملات پر مشترکہ اتفاقِ رائے بھی پیدا ہو جائے۔
ٹرمپ نے روزنامہ نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران مخالف مؤقف رکھنے والے اپنے قریبی اور پسندیدہ سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن کی انتخابی شکست پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’ڈارلین گراہم شکست کھا گئیں۔ میں یہ سوال اٹھاتا ہوں کہ خود لنڈسے گراہم کی کارکردگی کیا رہی اور انہوں نے ان انتخابات میں کیا کردار ادا کیا؟
اب تک ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں 147 نشستیں حاصل کر چکے ہیں اور ریپبلکنز سے 10 نشستیں چھیننے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کو فی الحال 91 نشستیں ملی ہیں۔
سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس 47 نشستوں کے ساتھ ریپبلکنز کی 38 نشستوں سے آگے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے تین نشستیں حاصل کی ہیں اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں مزید چار نشستوں کی ضرورت ہے۔
اسی دوران ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو نے ٹیکساس سے سینیٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹیکساس امریکہ کی روایتی طور پر ریپبلکنز کی مضبوط ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1988 کے بعد وہ پہلے ڈیموکریٹ ہیں جنہوں نے ٹیکساس سے کانگریس میں جگہ بنائی ہے۔
اس حوالے سے فاکس نیوز کے ایک معروف میزبان نے کہا: ’’اگر ہم ایران کے ساتھ جنگ میں نہ الجھتے تو ہمیں شکست نہ ہوتی۔
آپ کا تبصرہ